کھلا خط ایم کیو ایم لیڈران کے نام

سندھ متروکه ملکيت نهيں ہے
نواز خان زئور

کھلا خط ایم کیو ایم لیڈران کے نام
سندھ متروکه ملکيت نهيں ہے
نواز خان زئور

عالی جناب فاروق ستار، خالد مقبول صديقي، عامر خان اور ديگر رهنماؤ!
میں کافی دنوں سے آپ کی تقریریں سن رہا ہوں اور آپ کے بیانات پڑھ رہا هوں. جیسے ہی ۲۰۱۸ع کے انتخابات کے دن نزدیک آ رہے ہیں، الیکشن جیتنے کے لیے آپ کے دل میں لالچ کا غبار، دماغ میں سازشوں کی سیاہی اور لبون پر نفرت کا زہر پھیل رہا ہے. حیرت انگیز تو نہیں البتہ شرمناک بات ضرور ہے کہ آپ آج کل جب بھی لب کشائی کرتے ہو، سندھ کے خلاف ہی بولتے ہو. شرمناک اس لیے کہه رہا ہون کہ ایک دؤر تھا جب ہندستان کی دھرتی سے آپ ایسے نکل رہے تھے جیسے ملیریا کے مریض کے منہ سے الٹیاں اور قے نکلتی ہے. اور آپ کی حالت ایسی قابل رحم تھی کہ انسانیت کو رونا آ رہا تھا. لیکن پھر بھی اس روءِ زمین پر کوئی بھی آپ پر رحم کرنے والا اور آپ کو پناہ دینے والا نہیں تھا.
صرف ایک بوڑھا تھا جو آپ کو دلی کی جامع مسجد کے میناروں سے صدائیں دے رہا تھا کہ جامع مسجد کے میناروں، لال قلعے کی فصیلوں، تاج محل کے مرمریں گنبذ اور گنگا جمنا کے روپہرے پانیوں کو چھوڑ کر کہاں جا رے ہو؟ ھجرت کے نام پر یہ فراریت آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟ لیکن آپ کے کانوں میں روئی پڑی تھی اور مکہ معظمہ کے کافروں کی طرح آپ بہرے بن گئے تھے؛ اور مولانا ابوالکلام آزاد کی صدائین دلی کی ہواؤں میں بے معنی ہو کر بکھر گئی تھیں.
دوسری طرف مشرقي پنجاب کے اندر سکھ تھے جو آپ کی نوجوان عورتوں، بوڑھی ماؤں اور دوشیزائوں کو اپنے بیرحم کرپانوں اور عرياں گھٹنوں تلے روند رہے تھے، اور مسلمان پنجاب آپ کے زخمون پر مرہم لگانے اور تسلی کے دو حرف دینے کی بجائے تماشائی بن کر کہہ رہا تھا کہ پاکستان آگے ہے، آگے جاؤ!
اور آگے سندھ تھی.
سندھ نے آپ کی ماؤں کے سر پہ ہاتھ رکھا، آپ کی نیم عریاں بہنوں کے تن پر کپڑے پہنائے اور بیٹیوں کے سروں پر چادریں رکھیں. وہ سندھی ہی تھے جنہوں نے اپنے ھندو بھائیون کی طرف سے ان کو دیے گئے کشادہ، خوبصورت، مضبوط اور محلوں جیسے گھروں، دکانوں اور مکانوں کی چابیاں آپ کے حوالے کیں تاکہ آپ ان میں آرام کر سکو اور آپ کے جسموں اور روحوں کے زخم مندمل ہوجائیں.
ہم نے آپ کے بڑوں کے لیے صرف گھروں کے ہی نہیں دلوں کے دروازے بھی کھول دیے تھے. جہاں دل کا دروازہ نہیں کھلتا، وہان گھر کے دروازے بھی نہیں کھلتے.
حکومت کی پالیسیاں، متروکہ ملکیتیں یا کلیم وغیرہ، تو بعد میں بنی تھیں، سندھیوں نے اپنے گھروں اور دلوں میں آپ کو پہلے بٹھایا تھا. اگر پرچو ودیارتھی کے لڑاکو نوجوان سندھ کی شمالی اور مشرقی سرحدوں پر آپ کے دو چار قافلوں کے ساتھ سکھوں جیسا حشر کرتے تو یقینن پیچھے سے آنے والے اور قافلے رک جاتے. لیکن سندھ میں کسی تھکے هارے مسافر اور پہلے سے ہی مظلوم بنے ہوئے لوگوں، مسافروں اور شکستہ حال لوگوں سے لڑنا معیوب سمجھا جاتا ہے. ہم شکستہ حال لوگوں سے لڑتے نہیں، انہیں پناه دیتے ہیں. اس مرتبہ بھی ہم نے اپنی اس تاریخی روایت کو برقرار رکھا اور آپ کے آبا و اجداد کو اپنے دود ھ سے دھلتے ہوئے شہروں میں پناہ دی.
لیکن اب آپ ہو کہ دعوہ کرتے ہو کہ آپ نے متروکہ سندھ کو ہندوؤں سے آزاد کرایا تھا! آپ نے ان دنوں کی تصویریں تو ضرور دیکھی ہوں گی، جن دنوں کا آجکل آپ دعوہ کر رہے ہو. نہیں دیکھیں تو تھوڑی سی تکلیف کر کے دیکھ لیجیے.
تصویریں خود بول رہی ہیں کہ وہ کسی فاتح لشکر کی تصاویر نہیں ہیں، بلکہ ان بھوکے، ننگے اور شکست خوردہ لوگوں کی ہین، جو اپنے وطن سے خستہ حال نکلے تھے. پنجاب انہیں پناہ دینے کیلیے تیار نہیں تھا، اور سندھ نے ان بھوکوں کو کھانا دیا، ننگوں کو تن پر پہننے کیلیے کپڑا دیا، کھلے آسمان میں پڑے بے یار و مددگار لوگوں کو چھت دی اور انکے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے آنسو پونچھے اور تسلی دی تھی.
اب آپ کہتے ہو کہ ہم سندھ کے فاتح ہیں!
میرے بھائیو!
آپ نے سندھ کو فتح نہیں کیا تھا اور نا ہی آپ کے آبا و اجداد سندھ میں فاتح بن کر داخل ہوئے تھے. وہ سندھ میں ایسے داخل ہوئے تھے جیسے فلسطینی اردن اور لبنان میں آئے تھے. پھر دنیا نے صابرہ اور شتیلا جیسی کئمپیں دیکھیں. لیکن سندھی اردنی اور لبناني نہیں تھے، اس لیے آپ کو کئمپوں کی بجائے گھروں میں جگہ دی گئی.
تو نہ آپ نے سندھ فتح کی تھی، نہ سندھ متروکہ تھی.
سندھ متروکہ نہیں تھی، متروکہ املاک تھیں. وطن متروکہ نہیں ہوتا، وطن املاک بھی نہیں ہوتا، جو بانٹا جا سکے. وطن آباو اجداد ہوتا ہے، وطن ماں ہوتا ہے.
یاد رکھو ترکہ واپس بھی لیا جا سکتا ہے، اور جسے آپ متروکہ کہتے ہو وہ چیزیں اس امید پر چھوڑی گئی تھیں کہ حالات بہتر ہونے پر واپس آکر ہر شئے کو دوبارہ سنبھالا جائے گا. اس لیے آپ مالک نہیں ہو. جھوٹی دعوائیں کیوں کرتے ہو. شاید تم نہیں جانتے کہ جھوٹی دعوہ چوروں کا شیوہ ہے، مالکان کا نہیں.
ياد کرو، اک وقت وہ تھا، جب آپ ہندستان کے فاتح هونے کے دعویدار تھے اور وقت آ نے پر ہندستان کی دھرتی نے آپ کو کچرے کی طرح باہر پھینک دیا.
آج آپ سندھ کے فاتح ہونے کے دعویدار ہیں! یاد رکھو سندھ نے ہر فاتح کو بالآخر شکست دی ہے. اگر آپ نے انکارِ وطن کی روش اور نام نہاد جھوٹی فاتحانہ ذہنیت ترک نہ کی تو ایک اور اذيت بھری ہجرت اور شکست کا آپ کو ذلت آمیز سامنا کرنا پڑے گا.
اس لیے بہتر ہے کہ پناہگیر نفسیات سے باہر نکلو. آپ کو ادراک ہے کہ پناہگیر نفسیات کیا ہوتی ہے؟ بہت مختصر الفاظ میں پناہگیر نفسیات احساس کمتری اور خوف کی نفسیات ہے، جس کی تہہ میں ابن الوقتی، ہر چڑہتے سورج کو سلام کرنا، عدم تحفظ کا احساس، اپنے آپ کو خول میں بند کرنا اور خوف کارفرما ہوتا ہے. یہ احساس کمتری ہے، جس کا علاج آپ فاتحانہ
برتری کے اظہار میں ڈھونڈتے ہو، یہ خوف ہے جو آپ کو جارحیت کی طرف لے جاتا ہے، یہ ابن الوقتی ہے کہ ہر منتخب حکومت میں بھی حصہ مانگتے ہو اور فوجی آمریتوں کے ساتھ بھی یار غار بن کے نتھنی ہو جاتے ہو. یہ بھی پناہگیر نفسیات کا جزو ہے کہ آپ کی سیاست انکارِ وطن پر مبنی ہے.
معاف کرنا اگر برا لگے تو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ دنیا کے واحد مہاجر نہیں ہو. ہر پناہگیر مہاجر ہے. کیونکہ وہ پناه کے لیے ہجرت کرتا ہے. فلسطینی پناہگیر بھی مہاجر ہیں، حالیہ دنوں کے شامی پناہگیر بھی مہاجر ہیں. عالمی قانون کی روءَ سے کوئی بھی مہاجر اور پناہگیر کسی دوسرے ملک یا اس کے کسی شہر پر حکمرانی اور مالکی کا دعویدار نہیں ہو سکتا. شامی پناہگزینوں کو جرمنی یا اس کے کسي شہر کی حکمرانی نہیں دی جا سکتی. لبنانی بھی عرب، اردنی بھی عرب اور فلسطینی بھی عرب، لیکن فلسطینی پناہگزینوں کو اردن اور لبنان تو دور کی بات ان کی کسی چھوٹی بستی پر بھی حکمرانی کا اختیار نہیں ہے. اختیار تو کجا، جب فلسطینی گوریلوں نے بیروت میں من مستیاں کرنی شروع کیں تو پی ایل او کی قیادت کو وہاں سے بکلنا پڑا. یاسر عرفات اور جارج حباش جیسی عالی نظر اور عالی ظرف قیادت. آپ میں تو یاسر عرفات کی کوئی ایک خوبی بھی نہیں ہے.
ایک اور بات بھی ہے. برائے مہربانی اپنی ہجرت کو مذہب کا مقدس لبادہ مت اوڑہیں. کیونکہ فتح مکہ کے بعد اس قسم کی ہجرت منسوخ کر دی گئی تھی. حضور اکرم ص نے فرمایا ہے:
“مکہ کی ھجرت کے بعد ھم نے ھجرت کو ہمیشہ کے لیے منقطع کردیا ہے.”
ایک اور حدیث مبارک میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
لا ھجرت بعد ھجرت مکہ.
“مکہ کی ھجرت کے بعد اب دوسری کوئی ھجرت نہیں ہے.”
ان حدیثوں کے لیے آپ “مسند ابو دائود”، “مسند ابو احمد”، “محدث عبدالرزاق”، سنن دحید بن منصور اور ابنِ ابی شیبا کو پڑھ سکتے ہیں.
ہاں مجھے معلوم ہے کہ آپ اپنی ھجرت کی قلابیں آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ وسلم کی ھجرت سے ملاتے ہو. اگر ایسی بات ہے تو پھر آپ کو واپس جانا چاہیے. کیونکہ فتح مکہ کے بعد مہاجروں کی بڑی تعداد واپس مکہ چلی گئی تھی.
ملکی صدر کا عہدہ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا انتظامی یا آئینی عہدہ ہوتا ہے. جب ڈاکٹر عبدالکلام صاحب ہندستان کے صدر بنے تو آئینی طور پر ہندستان کی سربراہی مسلمانوں کے ہاتھوں میں آ چکی. جس ملک کا سربراہ مسلمان ہو تو اسے مسلمانوں کا ملک کہنے میں کیا حرج ہے؟ اور وہ بھی آپ کے پرکھوں کا ملک. تو آپ کو مکہ واپس جانے والے مہاجرین کی تقليد کرتے هوئے ان کي طرح واپس جانا چاہیے.
يه تو ناقابل ترديد حقيقت هے که آپ کی ھجرت نہ تو اسلام کی راہ میں تھی اور نہ ہی اس کا کوئی اخلاقی جواز تھا. اس کے پیچھے دولت اور اقتدار کی حوس تھی اور بوڑھے مولانا کے الفاظ میں اسلام کے نام پر فرار تھا.
افسوس یہ ہے کہ آپ لوگ اب بھی اس فراریت کی روش اور عادت میں پھنسے ہوئے ہو؟ کل آپ اسلام کے نام پر ہندستان کے بٹوارے کے درپے تھے اور آج لسانی سیاست کے نام پر سندھ کا بٹوارہ چاہتے ہو. آپ کل بھی غلط تھے اور آج بھی غلط ہو. نہ دنیا میں مسلمان نامی کسی قوم کا وجود تھا، نه هے، نہ ہی دنیا میں کوئي بھی مہاجر قوم بن سکتے ہیں. ھجرت کرنے والوں کو بالآخر اپنے وطن واپس لوٹنا پڑتا ہے. جیسے انگریزوں کے دؤر میں خلافت تحریک کے دوران افغانستان ھجرت کرنے والوں کو واپس ہندستان لوٹ کر آنا پڑا تھا.
لیکن آپ تو خوشنصیب ہیں کہ سندھ نے اردو بولنے والوں کو اپنا حصہ مانا ہے. سندھ کسی سازش کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئی. سندھ اپنے قومی وجود اور تشخص کے لیے کسی مذہب کی مرہون منت بھی نہیں ہے. سندھ ایک تاریخی قوم اور ملک ہے. اسے سازش یا مذہب کے نام پر بانٹا نہیں جا سکتا. ہم کسی محمد علي جینا بھائی، لیاقت بھائی یا مسلم لیگ کی طرف سے نہیں بنائے گئے. نا ہی ہم کسی آئینی ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں. سندھ قدرت کی ایک شاہکار تخلیق ہے. ایک تاریخی وطن، ایک اٹوٹ وحدت، ایک مستقل ملک. سندھ کسی کے ہاتھ کا بنایا ہوا صوبہ نہیں ہے کہ اس میں توڑ پھوڑ کی جا سکے. سندھ ایک ملک کے طور پر تاریخی سرحدیں رکھتی ہے. ایک ملک، ایک قومی ریاست. یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ پاکستان کے اندر ہمارا اسٹیٹس ریاست کی بجائے صوبے کا بنا دیا گیا ہے. قوموں کي زندگيوں ميں ایسے اتار چڑہاؤ اور نشيب و فراز آتے رہتے ہیں. انگریزوں نے ہم پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن آج انگریز نہیں ہیں. سندھ آج بھی ہے. کل پاکستان ہو نہ ہو، سندھ رہے گی. شاد و آباد، سلامت اور آزاد رہے گی.
محترمو!
اليکشن جیتنے کی لیے یا اپنی نامراد حسرتوں کی بھڑاس نکالنے کی لیے غیر ذمیدارانہ انداز بند کرو. سندھ کی ایک کمیونٹی کی حیثیت میں سندھی قوم کا حصہ بننے سے ہی آپ کا اورـآپ کے آنے والے نسلوں کا مستقبل محفوظ رہ سکتا ہے. آپ خول میں بند ہو کر اور سندھیوں سے لڑ کر محفوظ نہیں رہ سکتے. یہ تنازع اللبقا کا نہیں، بقائے باھمی کا دؤر ہے.
بقائے باہمی کے اس جذبے میں دراڑیں اس وقت پڑتی ہیں، جب آپ کبھی کراچی صوبہ، کبھی جنوبی سندھ صوبہ یا کبھی شہری سندھ دیہی سندھ کی غيرذميدارانه اور نفرت آميز باتيں کرتے ہو.
ھم بڑی عجیب قوم ہیں. محبت میں سب کچھ دے دیتے ہیں. جیسے پاکستان کو سونے چمچے میں کھلا رہے ہیں. جیسے آپ کو بہت بڑی سہولیات اور مراعات سے نواز دیا ہے. لیکن سندھ کی سالمیت کے سوال پر ہم نے کبھی سودیبازی نہیں کی. ہم وطن کے سوال پر عربوں سےلڑے، مسلمان ہونے کے بعد بھی عربوں سے لڑے. ابن قاسم سندھ پر حکمرانی نہیں کر سکا تھا.
ہم مغلوں سے اکبر کے دؤر سے لے کر اورنگزیب تک لڑتے رہے اور اورنگزیب کے مرنے کے بعد بالآخر آزاد ہوگئے. آپ کو جن پر ھندستان کے فاتح بننے کا فخر ہے، وہ ہمارے آبا و اجداد کے ہاتھوں بری طرح شکستيں کھا چکے تھے. تاریخ تسلسل میں چلتی ہے. فتح و شکست کا سلسلہ بھی اسی انداز میں چلتا ہے.
اس لیے فاتح ہونے کے جھوٹے تصوروں، متروکہ املاک کی پرفریب دعواؤں اور سندھ کے حصے بکھرے کرنے کی غلط فہمیوں اور خام خیالی سے باہر نکلو. ورنہ سندھ آپ کو عربوں، ارغونوں، ترخانوں، مغلوں اور انگریزوں کی طرح باہر نکال دے گی.
ليکن سچ یہ ہے کہ ہم ایسا نہیں چاہتے. هم چاہتے ہیں که آپ سندھ کے فرمانبردار فرزند بن کر يهين رهيں. اب يه آپ پر ہے که آپ کيا فيصله کرتے هيں.
ميں ايک نهايت ذميدار قومپرست رهنما کي حيثيت ميں، اپنا تاريخي فرض سمجھتے هوئے، سندھي قوم کي طرف سے ايک بار پھر آپ کو دل سے دعوت ديتا هوں که آؤ مل جل کر بقائے باهمی اور برابری کی بنیاد پر نئی، مشترکہ اور آزاد سندھ کی تعمیر کریں.

نواز خان زئور
چیئرمین
جئے سندھ لبرل فرنٹ
۱۱ مئے ۲۰۱۸ع
کراچی سندھ.
nkzaor@yahoo.com

Leave a comment

اپنا تبصرہ بھیجیں