تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن! چیف جسٹس صاحب کے نام کھلا خطـ

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن،اپنا تو بن !

چیف جسٹس صاحب کے نام کھلا خط ـ

جناب عالی ہم پہلے سے قومی سیاست کو رو رھے تھے کہ ہمارے قومی سطح کے لیڈر گلیاں پکی کرانے اور نلکے لگوانے نکل پڑے ہیں ،، آپ نے تو ان کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے ـ مائی لارڈ بطور چیف جسٹس آف پاکستان ہوٹلوں کے جو دیگچے آپ جھانک رہے ہیں اور ہاسپٹل کے ٹوائلٹس چیک کر رھے ہیں یہ کام آپ ہی کے محکمے کے میجسٹریٹ اور سیشن جج کا ہے ، یا تو آپ میڈیا پہ آ کر اعتراف کریں کہ میرا محکمہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ھو گیا ہے ، میرے میجسٹریٹ اور جج کرپٹ ھو گئے ہیں لہذا مجھے میدان میں اترنا پڑا ھے ، مگر اس کے بعد آپ صرف انتظامیہ کے خلاف ایکشن نہ لیں بلکہ اس علاقے کے میجسٹریٹ اور سیشن جج کو بھی معطل کریں اور ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کریں ، یہ مشہوری کا مرض بہت برا ھے سرکار ،ابلیس کو ابلیس اسی مشہوری کے شوق نے بنایا تھا کہ جہاں خدا کا ذکر ھو گا باغی کا تذکرہ بھی ضرور ھو گا ،، اور ہر آسمانی کتاب اس کے تذکروں سے بھری پڑی ہے ،، اسی طرح صبح سے شام تک میڈیا پر آپ کے ہی ترانے چلتے ہیں مگر کرنے والا کام آپ نہیں کر رھے ، پلیز عدالتوں پر چھاپے ماریئے وہاں ججز اور دیگر عملے کی حاضری چیک کیجئے ، باہر دھوپ میں بیٹھی اپنی بیٹیوں سے پوچھئے کہ ان کو اس عدالت کے باھر ذلیل ہوتے ھوئے کتنا عرصہ گزرا ہے ، ذرا عدالت کا ریکارڈ چیک کیجئے ،خدیجہ جیسے کیسوں سے آپ کا محکمہ بھرا پڑا ہے ،، جیلوں میں جایئے آپ کو قیدیوں کی مظلومیت کا پتہ چلے ، وہاں سو موٹو لیجئے اس عورت کے حق میں جو جیل میں تین تین ابارشن کرا چکی ھے مگر اس کی تاریخ نہیں لگی ـ مگر ان چھاپوں کے سائیڈ ایفیکٹس سے آپ بخوبی واقف ہیں ، آپ جتنے سیانے لگتے ہیں اس سے بہت زیادہ سیانے ہیں ، آپ کو پتہ ھے کہ جب آپ عدالتوں پرچھاپے ماریں گے اور ججز و وکلاء کے کارنامے سامنے آئیں گے اور عدلیہ کے گندے پوتڑے میڈیا پہ اچھالے جائیں گے تو یہ ججز اور وکلا آپ کا بینڈ بجا دیں گے ، آپ سمیت سارے ججز اپنے ان اتھرے بچوں سے ڈرتے ہیں اور ان کے یرغمال ہیں لہذا آپ کبھی اپنی عدلیہ کو درست کرنے کی سعی نہیں فرمائیں گے اور عوامی ہیرو کا رول ادا کرتے ہوئے جانا پسند فرمائیں گے ـ آپ کے اپنے احتساب کا کوئی دروازہ کھُلا ھے ؟ کمال کے عقلمند نہیں وہ لوگ جنہوں نے یہ رولز بنائے ہیں کہ چیف جسٹس کے خلاف شکایت کو خود چیف جسٹس کی سربراھی میں قائم جیوڈیشل کمیشن سنے گا ، سرکار کیا دنیا میں ایسا ہوتا ھے کہ ملزم خود ہی اپنا منصف بھی ھو ؟ کیا جنرل درانی کا محاسبہ جنرل درانی کی سربراھی میں قائم ٹریبونل کر سکتا ھے ؟ کیا وزیر اعظم کا احتساب وزیر اعظم کی سربراھی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کر سکتی ھے ؟ سب سے بودا نظام ججز کے احتساب کا ھے کہ درخواست جمع کرا دو ، اب چیف صاحب کی مرضی ہے کہ وہ کونسل کا اجلاس بلائیں یا نہ بلائیں ، اور بلائیں تو کب بلائیں ، اور اس میں سماعت کے لئے ججز بھی اپنی مرضی کے مقرر کریں ، اور یہ آپشن بھی کھلا ھے کہ چیف صاحب بغیر کوئی اجلاس بلائے پانچ دس سال گزار کر گھر چلے جائیں ، قسم سے ججز کی موجیں ہی موجیں ہیں ، کاش ججز کو بھی نیب کے انڈر دیا گیا ھوتا ،

بس گزارش یہ کرنی تھی کہ ہمارا خیال نہ کریں اپنے مرتبے کا خیال کریں ، اگر آرمی چیف ہی حوالدار کی طرح یونٹوں میں سپاہیوں کی بیلٹ اور شوز ، داڑھی اور مونچھیں ، میس اور باتھ روم چیک کرنا شروع کر دے تو اس کا مقام و مرتبہ بڑھے گا یا تماشہ بن جائے گا ؟ یہ سارے کام فوج میں متعلقہ جونیئر افسر کر لیتے ہیں اس لئے آرمی چیف کو ان کاموں کی ضرورت نہیں ، جبکہ آپ کے جونیئرز کرپٹ ہیں جو پیسے لے کر ہر چیز سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور آپ پرائے پُتروں کو تو ڈانٹتے ہیں ، اپنے شہزادوں کو کچھ نہیں کہتے ـ پلیز بس کر دیں بس !

عرضے فدوی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a comment

اپنا تبصرہ بھیجیں