چینی سفارت خانے نے 90 پاکستانی دلہنوں کے ویزے روک لیے

واشنگٹن —
اسلام آباد میں قائم چینی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ 2018 کے دوران چینی لڑکوں اور پاکستانی لڑکیوں کے درمیان ہونے والی 142 شادیوں کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی دلہنوں کو زبردستی شادی کے بعد چین لے جا کر نہ صرف اُن کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے بلکہ اکثر واقعات اُن سے عصمت فروشی کا دھندہ کرایا جاتا ہے یا اُن کے اعضاء فروخت کر دیے جاتے ہیں۔

سفارت خانے نے اس سلسلے میں 90 پاکستانی دلہنوں کے ویزے روک لیے ہیں۔ چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژاؤ نے اخبار ’اُردو نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال پاکستانی لڑکیوں کی طرف سے چینی ویزے کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ چند ماہ میں سفارت خانے کو ویزے کے لیے 140 درخواستیں موصول ہوئیں۔ تاہم سفارت خانے نے صرف 50 افراد کو ویزے جاری کیے جب کہ دیگر 90 افراد کے ویزے روک لیے ہیں۔

چینی سفارت کار نے کہا کہ چین میں ان شادیوں کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاہم پاکستانی لڑکیوں سے عصمت فروشی کا دھندہ کرانے یا اُن کے اعضاء فروخت کیے جانے کا کوئی سراغ نہیں ملا, اور بقول اُن کے, یہ الزامات محض سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی اطلاعات پر مبنی ہیں۔
ایک پاکستانی دلہن مقدس اشرف اپنی روداد بیان کر رہی ہے
اُنہوں نے کہا کہ شادیوں کے 142 واقعات میں سے صرف چند واقعات میں تشدد یا ہراساں کیے جانے کے شواہد ملے ہیں جب کہ بیشتر شادیاں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انجام پائیں۔

چینی سفارت کار نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ چینی لڑکے چین میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے باقاعدہ ویزے حاصل کرنے کے بعد پاکستان آئے۔ اُنہوں نے یونین کونسل سے نکاح کے فارم حاصل کیے اور رجسٹرار کے دفتر میں نکاح درج کیا گیا۔ اس کے بعد دفتر خارجہ سے نکاح نامے کی تصدیق بھی کرائی گئی۔

اُنہوں نے کہا کہ چینی لڑکوں نے شادی کے بعد اپنی دلہنوں کے لیے چینی ویزے کے حصول کی درخواست دی۔

سفارت خانے کا مؤقف بیان کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ یہ تمام شادیاں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئیں۔

چینی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نے دو واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک پاکستانی خاتون نے پاکستانی وزیر کو خط لکھا جس پر پاکستانی وزارت خارجہ اور چینی سفارت خانے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مداخلت کی۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ خاتون پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔ تاہم خاتون کی خواہش پر طلاق ہو گئی اور وہ 2 مئی کو واپس اسلام آباد آ گئی۔ چینی سفارت کار نے کہا کہ چینی حکومت نے خاتون کو واپسی کے لیے جہاز کا ٹکٹ فراہم کیا۔

دوسرے واقعے میں ایک پاکستانی خاتون نے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرتے ہوئے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی۔ تاہم تفتیش سے معلوم ہوا کہ ہراساں کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ چینی دفتر خارجہ اور پاکستانی سفارت خانے کی کوششوں سے خاتون اور اُس کے چینی شوہر میں صلح ہو گئی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ واپس چلی گئیں۔
چینی سفارت کار نے کہا کہ پاکستان کی آن ارائیول ویزہ پالیسی کو کچھ میرج بیورو غلط طور پر استعمال کر کے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ لہذا پاکستانی حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے چینی افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے جو کاروبار کے نام پر پاکستان آتے ہیں اور یہاں شادی کر لیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام کو معلوم کرنا چاہیئے کہ کاروبار کے نام پر پاکستان آنے والے چینی افراد کو کن پاکستانی کاروباری اداروں یا چیمبر آف کامرس نے دعوت دی تھی۔

لی جیان ژاؤ نے بتایا کہ چین میں ان شادیوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور اگر کوئی جرم ثابت ہوا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تاہم پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جعلی شادیوں کے شبہے میں متعدد چینی افراد کو حراست میں لیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز کہا کہ مقامی حکام چین کے سفارتی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جعلی شادیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نیوز کریڈٹ: وی او اے

Leave a comment

اپنا تبصرہ بھیجیں