پاکستان کا بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک —
پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ حماد اظہر نے کہا ہے کہ بھارت سے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اُن کے بقول چینی کی قیمت پاکستان سے کم ہونے پر بھارت سے درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بدھ کو پہلی پریس کانفرنس میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جون کے اختتام تک بھارت سے کاٹن کی درآمدات کی بھی اجازت دی جائے گی جب کہ بھارت سے دوسری اشیا کی درآمد سے متعلق فیصلوں پر بھی نظرِ ثانی کریں گے۔

حماد اظہر نے گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے رکھنے اور پیٹرول کی قیمت میں کمی کا بھی اعلان کیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی ضرورت کے مطابق بھارت سے تجارتی روابط بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں حماد اظہر نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر پوری دنیا سے درآمد کی اجازت دی۔ لیکن باقی دنیا میں بھی چینی کی قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے درآمد ممکن نہیں ہے۔ البتہ بھارت میں چینی کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کافی کم ہے تو اسی لیے نجی شعبے کے لیے بھارت سے پانچ لاکھ ٹن تک چینی کی تجارت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ یہاں سپلائی کی صورتِ حال بہتر ہو سکے اور جو معمولی کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔ ہماری چینی کی مجموعی پیداوار 55 سے 60 لاکھ ٹن ہے۔

حماد اظہر نے مزید کہا کہ ہماری کرنسی اپنے زور پر خود کھڑی ہے اس کے استحکام کے لیے ڈالر نہیں جھونک رہے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

حماد اظہر نے کپاس کی درآمد کے حوالے سے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بھارت سے تجارت بحال کی گئی ہے۔ بڑے کارخانہ دار مصر سے کپاس درآمد کر سکتے ہیں۔
‘اسلام آباد کے فیصلے سے پاکستان بھارت تعلقات پر فرق نہیں پڑے گا’
بھارت سے چینی اور کاٹن کی درآمد کے اسلام آباد کے فیصلے کے بارے میں بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی ضروریات کے پیشِ نظر چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر کشمیر کی صورتِ حال میں تبدیلی کے بعد ہی آئیں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالباسط نے کہا کہ اس وقت اگر کوئی معاملہ چل رہا ہے تو وہ کشمیر کے تنازع کی طرف ہی جائے گا۔ پاکستان کو ہر حال میں پالیسی کشمیر کے معاملے کو سامنے رکھ کر بنانی پڑے گی۔

Leave a comment

اپنا تبصرہ بھیجیں