وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت اور کالعدم ٹی ایل پی کے مابین معاہدے کی مخالفت کر دی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکومت اور کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے مابین ہونے والے معاہدے کی مخالفت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم سب کے دلوں میں رسول اکرم ﷺکی عزت اور جذبات ہیں، ناموس رسالت ﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ کل لاہور میں جو کچھ ہوا اس کے رد عمل میں ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ ہم نے سندھ میں مذہبی جماعتوں سے رابطے بھی کیے ہیں، ہمارے کسی بھی عمل سے دوسروں کو مشکلات نہیں ہونی چاہئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے دکان بند کرنا چاہتا ہے تو اسے نہیں روکا جائے گا، پُرامن طریقے سے جو احتجاج کرنا چاہتا ہے اسے نہیں روکیں گے۔
اگر امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تو حفاظتی اقدامات کریں گے۔ یاد رہے کہ کل صبح کالعدم تحریک لبیک کےمسلح کارکنوں کا نواں کوٹ تھانے پر حملہ کیا، ڈی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کو اغوا کرکے مرکز لے گئے،ملتان روڈ پر کالعدم تحریک لبیک کا احتجاج آج بھی جاری رہا۔تصادم کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت مظاہرین بھی زخمی ہوئے ۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مسلح مظاہرین نے نواں کوٹ تھانے پر حملہ کیا۔
حملے کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکار تھانے میں محصور ہوگئے، جنہوں نے دفاعی طور پر مظاہرین کو پیچھے دھکیلا، مظاہرین ڈی ایس پی نواں کوٹ کو اغوا کرکے اپنے مرکز لے گئے ۔مظاہرین نے50 ہزار لیٹر پیٹرول کا ٹینکر بھی اپنی تحویل میں لے رکھا تھا ۔مظاہرین نے پولیس اور رینجرز پر پیٹرول بم سے بھی حملے کیے تھے ۔ گذشتہ روز پولیس نے لاہور میں پر تشدد مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں فوٹیجز کی مدد سے کالعدم ٹی ایل پی کے 70 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔
لاہور میں پولیس اور رینجرز نے یتیم خانہ چوک پرکئی روز سے قابض مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن بھی کیا، آپریشن کے دوران یتیم خانہ چوک کی جانب جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں تاہم بعد ازاں صدر تنظیم المدارس اہلسنت اور ممتاز عالمِ دین مفتی منیب الرحمان نے لاہور واقعہ کے خلاف آج پیر کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے بعد جمیعت علمائے اسلام (ف) اور لما اہل حدیث نے بھی ملک گیر ہڑتال کی حمایت کی تھی۔

Leave a comment

اپنا تبصرہ بھیجیں